قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 74
مباحثہ ہوا جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے۔جب دو ماہ کی مدت پوری ہوئی تو حضور اسی راستہ سے واپس قادیان تشریف لائے جس راستہ سے گئے تھے۔17 / مارچ 1886ء کو قادیان پہنچ گئے۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں: ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے۔جہاں کچھ باغیچہ سالگا ہوا تھا۔وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کیلئے پہلی سے اُتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے۔یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے میں پیچھے پیچھے ساتھ ہو گیا۔اور شیخ حامد علی اور فتح خان پہلی کے پاس رہے۔آپ معتبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے اور تھوڑی دیر دُعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ”جب میں نے دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دوزانو ہوکر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔ان کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے۔" پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے ان کے حالات پوچھیں۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا۔اُس نے کہا کہ میں نے ان کو خود تو نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گزر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ سانولا رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔(سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اوّل روایت 88 صفحہ 65-64) 74