قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 46 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 46

تعمیر کے بعد ہی مالک مکان پر پے در پے مصیبتیں آنے لگیں۔اس نے عمارت کو منحوس خیال کرتے ہوئے اسے صدر انجمن احمد یہ کوفروخت کر دیا۔1/5 پریل 1932ء کو اس میں صدر انجمن کے دفاتر منتقل ہو گئے۔(الفضل 28 اپریل 1932ء صفحہ 2 )2008ء میں یہ عمارت انتہائی خستہ ہو چکی تھی۔دوسری طرف مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی ضروری تھی۔لہذا اسے منہدم کر کے مسجد کی توسیع ہوئی۔اور ایک دفعہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔کہ شاہی کیمپ کے پاس کوئی شخص نہیں ٹھہر سکتا۔الحمد لله على ذالک! توسیع کے بعد اب اس مسجد میں ہزاروں آدمیوں کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔سطح زمین پر جو ہال ہے اس کی لمبائی شمال سے جنوب تک ایک سواٹھارہ (118) فٹ ہے اور مشرق سے مغرب کی چوڑائی پچپن (55) فٹ ہے۔اس کے علاوہ سطح زمین پر ہی مسجد کے پرانے حصے میں جنوب کی طرف جو ہال ہے اس کی لمبائی شمال جنوب کی طرف بہتر (72) فٹ ہے۔اور چوڑائی چالیس (40) فٹ ہے۔مسجد کے ہر فلور کا رقبہ 7200 مربعہ فٹ ہے۔مسجد کے جدید تعمیر شدہ حصے میں جانے کے لئے جنوب کی طرف سیڑھیاں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ قدیمی حصہ میں جانے کے لئے شمال مشرقی جانب سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔46