قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 73
بعد آپ نے اسی شہر سے مشہور اشتہار 20 رفروری 1886 ءشائع فرمایا۔قادیان سے ہوشیار پور کی دوری 70 کلومیٹر ہے۔دریائے بیاس جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جنوری 1886ء کو ہوشیار پور تشریف لے جاتے ہوئے بذریعہ کشتی عبور کیا تھا اب اس پر پختہ پل تعمیر ہو چکا ہے جس کی وجہ سے قادیان سے ہوشیار پور بذریعہ ٹیکسی ڈیڑھ دو گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔جب جنوری 1886ء کو حضور علیہ السلام چلہ کشی کیلئے تشریف لے گئے تھے تو آپ کے ساتھ حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری ، حضرت شیخ حامد علی صاحب اور میاں فتح خان صاحب بھی تھے۔شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروا دیا۔آپ نے اس مکان کے ایک کمرہ میں چالیس دن دُعائیں کیں۔آپ نے ہدایت دے رکھی تھی کہ کوئی اوپر بالا خانہ میں میرے پاس نہ آوے۔میرا کھانا او پر پہنچادیا جاوے۔مگر اس کا انتظار نہ کیا جاوے کہ میں کھانا کھالوں۔خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جایا کریں۔نماز میں اوپر الگ پڑھا کروں گا۔تم نیچے پڑھ لیا کرو۔جمعہ کیلئے حضرت صاحب نے فرمایا کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو جو شہر کے ایک طرف ہو جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا اسمیں ایک مسجد تھی وہاں جمعہ کے دن حضور علیہ السلام تشریف لے جایا کرتے تھے اور ہم کو نماز پڑھاتے تھے اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے۔چلہ کے بعد آپ میں دن اور ہوشیار پور میں رہے۔انہی دنوں لالہ مرلی دھر سے آپ کا 73