قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 65 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 65

ہاتھ پر اس وقت بیعت کی تھی۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ ہائی اسکول کے شمالی میدان میں پڑھایا تھا۔یہی وہ تاریخی مسجد ہے جس میں جماعت احمدیہ کی اکثریت نے قرآن مجید، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی تعمیل میں خلافت سے وابستہ رہنے کا عہد کیا تھا اور معدودے رودے چند لوگ مولوی محمد علی صاحب کی سرکردگی میں خلافت سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے قادیان کو چھوڑ کر لا ہور چلے گئے تھے۔بعض اور تاریخی و یادگاری مقامات مذکورہ بالا تاریخی و مقدس مقامات کے علاوہ احباب جماعت مندرجہ ذیل تاریخی و یاد گاری مقامات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔2015 ء میں ان عمارات میں جو ادارے ہیں انکے نام بھی درجہ ذیل ہیں :۔مکان حضرت خلیفہ امسیح الاول لنگر خانہ کی عمارت۔مہمان خانہ تعلیم الاسلام اسکول کی ابتدائی عمارت ( جس میں آجکل صدر انجمن احمدیہ، انجمن تحریک جدید اور انجمن وقف جدید کے دفاتر ہیں )۔مدرسہ کی ابتدائی عمارت خستہ ہونے کی وجہ سے منہدم کر دی گئی ہے اور مدرسہ احمدیہ (جامعہ احمدیہ ) سرائے طاہر کی عظیم الشان عمارت میں منتقل کردیا گیا ہے۔( یہ جگہ تعلیم الاسلام اسکول کی ابتدائی عمارت کے صحن میں شامل کر دی گئی ہے )۔قصر 65