قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 56
مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ ادا کی۔مقام ظہور قدرت ثانیہ جنازہ گاہ کے قریب ہی وہ مقام بھی ہے جہاں افراد جماعت نے 25 /ربیع الاول 1326 ہجری بمطابق 27 مئی 1908 ء کو حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو متفقہ طور پر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا خلیفہ ( جانشین ) تسلیم کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اسے مقام ظہور قدرت ثانیہ کہا جاتا ہے قدرت اولی کی اصطلاح موت کیلئے اور قدرت ثانیہ کی خلافت کیلئے استعمال کی جاتی ہے یعنی جماعت احمدیہ میں ” خلافت کی ابتداء اسی جگہ سے ہوئی تھی جو انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک جاری رہے گی۔خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی کے موقعہ پر ظہور قدرت ثانیہ کے مقام پر یادگار تعمیر کرنے کے لئے مورخہ 2 جنوری 2008 ء صبح گیارہ بجے سنگ بنیاد رکھا گیا۔مؤرخہ 27 مئی 2008ء کو احباب جماعت نے یہاں بیٹھ کر حضرت خلیفہ اسیح الخامس نصرہ اللہ تعالی کا لندن سے بذریعہ ایم۔ٹی۔اے نشر ہونے والا خطاب سنا اور اکناف عالم میں بسنے والے احباب جماعت نے اسے بذریعہ ایم۔ٹی اے دیکھا۔56