قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 55
بعض پاکستان سے آئے ہوئے مہمانوں کو بتارہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ صبح صبح میں نے دیکھا کہ حضور کنویں سے ”بو گئے ( ربڑیا چمڑے کی بالٹی ) میں پانی لا کر اس ٹنکی میں ڈال رہے تھے۔بھائی جی نے فرمایا میں نے جلدی سے وہ بوکا حضور علیہ السلام کے ہاتھ سے لے لیا اور پھر میں نے پانی لا کر ڈالا۔صبح صبح حضور علیہ السلام نے اپنے کسی خادم کو پانی لانے کی زحمت دینا پسند نہ فرمایا۔دونشین حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اپنے باغ میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لاتے تو اس چبوترہ پر تشریف فرما ہوتے۔اور مجالس علم و عرفان کا انعقاد ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ موسم کے مطابق حاضرین کی تازہ پھلوں سے ضیافت بھی فرماتے۔1972ء میں اس جگہ ایک پختہ کمرہ تعمیر کر دیا گیا تھا اور حضور کے بیٹھنے کی جگہ کو نمایاں کر دیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق 2015 ء کے شروع میں سابقہ کمرہ کو منہدم کر کے خوبصورت بارہ دری تعمیر کی جاچکی ہے۔جنازه گاه اسی باغ میں وہ یاد گاری اور مقدس جگہ بھی ہے جہاں احباب جماعت نے 27 مئی 1908ء کو حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں حضرت 55