قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 54
مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر پھول ڈالنے اور مشرکانہ طریق اختیار کرنے لگے۔انہیں اس طریق سے باز رکھنے کیلئے بھی چار دیواری بنانا ضروری سمجھا گیا۔1956/ 1957ء میں بہشتی مقبرہ کے وسیع رقبہ کے ارد گرد بھی پختہ چار دیواری بنادی گئی۔جس کا اکثر حصہ درویشان کرام نے وقار عمل کے ذریعہ تعمیر کیا۔فجزاهم الله احسن الجزاء مکان حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب ہم مغرب کی طرف جائیں تو سامنے ایک مکان نظر آئے گا۔یہ مکان حضرت اماں جان کہلاتا ہے۔اور اسے دار الواقفین بھی کہا جاتا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد اطہر لاہور سے قادیان لا کر 27 رمئی 1908 ء کو اسی مکان کے درمیانی کمرہ میں رکھا گیا تھا۔اور اسی کمرہ میں احباب نے اپنے آقا کے آخری دیدار کا شرف حاصل کیا تھا۔اس تاریخی کمرہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔نوٹ:- خاکسار راقم الحروف محمد حمید کوثر تحریر کرتا ہے کہ اسی مکان کے مشرقی شمالی کونہ میں ایک غسل خانہ ہوا کرتا تھا اس کی ٹنکی میں پانی ڈالنے کا رستہ باہر کی طرف بنا ہوا تھا۔1960ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار نے دیکھا کہ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی 54