قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 23
تیرے پاس رہتے ہیں ان سب کے گناہ میں نے بخش دیئے ہیں۔) سيرة المہدی جلد دوم صفحہ 131 روایت 1168 ، مطبوعہ قادیان 2008ء) میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بیان کیا کہ ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز صبح کے وقت کچھ پہلے تشریف لے آئے۔ابھی کوئی روشنی نہ ہوئی تھی۔اس وقت آپ مسجد کے اندر اندھیرے میں ہی بیٹھے رہے۔پھر جب ایک شخص نے آکر روشنی کی تو فرمانے لگے کہ دیکھو روشنی کے آسے ظلمت کس طرح بھاگتی ہے۔(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 801 روایت 930، مطبوعہ قادیان 2008ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب تک مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم زندہ رہے وہ ہر فرض نماز میں قنوت پڑھتے تھے۔اور صبح اور مغرب اور عشاء میں جہر کے ساتھ قنوت ہوتا تھا۔قنوت میں پہلے قرآنی دعائیں پھر بعض حدیث کی دعائیں معمول ہوا کرتی تھیں۔آخر میں درود پڑھ کر سجدہ میں چلے جاتے تھے۔جو دعائیں اکثر پڑھی جاتیں تھیں۔ان کو بیان کر دیتا ہوں۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلگ۔۔۔(آل عمران: 195) (البقره: 202) 23