قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 84
اس حکم الہی کا جدید دور خلافت خامسہ کے عہد مبارک میں از سر نو شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔2013ء اور 2014ء میں جن مقدس و تاریخی مقامات کی renovation یعنی تعمیراتی لحاظ سے مرمت، درستی اور تزئین ہوئی۔یا ہورہی ہے ان کی فہرست درج ذیل ہے:۔مسجد مبارک ،سرخی کے نشان والا حجرہ ، بیت الفکر، دارا مسیح کے تمام حصص، مکانات حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب مرحوم و مغفور ، حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب، حضرت نواب محمد علی خان صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ، مکان حضرت ام طاہر صاحبہ مرحومہ، قصر خلافت قدیم و جدید، مسجد اقصی گلشن احمد، علاوه از میں مسجد اقصٰی کو جانے والے راستے اور دار اسیح کی گلیوں پر نئی ٹائیلیں لگوائی گئیں۔مسجد مبارک کی مشرقی جانب قدیمی آہنی گیٹ کی جگہ جدید آہنی گیٹ لگایا گیا، گیٹ والی دیوار کی جنوبی جانب ایک اور گیٹ لگوایا گیا۔تعلیم الاسلام ہائی اسکول کی عمارت میں معمولی ترمیمات کر کے اسے خوبصورت بنایا گیا۔مدرسہ احمدیہ کی قدیمی عمارت جو مرور زمانہ کی وجہ سے نا قابل استعمال ہوگئی تھی منہدم کر دی گئی۔شعائر اللہ میں سے ایک اہم مقام بہشتی مقبرہ قادیان ہے۔اس کے گرد چاردیواری کو مزید بلند کیا گیا۔اور اس پر خاردار تار لگائی گئی۔بہشتی مقبرہ کے پرانے آہنی گیٹ کو تبدیل کر کے ایک بڑا آہنی گیٹ لگایا گیا۔حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کی قبور اسلامی طریق 84