قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 45
ہے۔بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا میں خدا کا نور پھیلا۔پھر جب مسجد مبارک میں جاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں پڑھا کرتے تھے۔“ (روز نامه افضل قادیان دارالامان مورخہ یکم اکتوبر 1936ء جلد نمبر 24 شمارہ نمبر 79 صفحہ 6) صد سالہ خلافت جوبلی 2008ء میں مسجد اقصیٰ کی توسیع تقسیم ملک کے کچھ عرصہ بعد ہی مسجد اقصیٰ کی توسیع کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔آخر یہی مقدر تھا کہ یہ عظیم الشان توسیع کسی تاریخی موقعہ پر ہو چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الخامس نَصَرَهُ الله تَعَالَى نَصْراً عَزِيزاً کے عہد مبارک میں خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی کے موقعہ پر مورخہ 7 / جون 2008ء کو اس جگہ تین منزلہ عمارت کی بنیاد محترم فاتح احمد صاحب ڈاہری انچارج انڈیا ڈیسک لندن (حال وکیل تعمیل و تنفیذ انڈیا۔نیپال۔بھوٹان) نے رکھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں یہاں ایک غیر مسلم نے بلند و بالا عمارت تعمیر کرنی شروع کی تو احباب جماعت نے مسجد اور دار اسیح کے قرب کی وجہ سے اپنی فکر و تشویش کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالی سے علم پا کر فرمایا کہ: یہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔شاہی کیمپ کے پاس کوئی شخص نہیں ٹھہر سکتا۔" ( بدر 21 /اگست 2008ء) ( بحوالہ الفضل 3 مئی 1932 ء صفحہ 5) 45