قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 44 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 44

پانی منگوا کر پہلے حضور علیہ السلام نے پیا پھر ہم نے پیا۔(سیرت المہدی جلد دوم صفحه 229 روایت نمبر 1386 مطبوعہر بوہ سن 2008ء) حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ 5 فروری 1932ء میں فرمایا: اس مسجد کا نام خدا تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے اور اس کے متعلق فرمایا ہے کہ مُبَارِگ وَمُبَارَكَ وَكُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيهِ۔یعنی جو کام یہاں کیا جائیگا وہ با برکت ہوگا۔تو اس مسجد کی نماز اس کے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہوگی۔“ اخبار الفضل قادیان دار الامان مورخه 14 فروری 1932ء صفحہ 7 نمبر 97 جلد 19۔کالم نمبر 2) سید نا الصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا ارشاد سے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ الہام مسجد اقصیٰ کے بارے میں بھی ہے۔اسی طرح جلسہ سالانہ 2 193 ء پر حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے زائرین ارضِ حرم کو شعائر اللہ کی زیارت کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ”شعائر اللہ میں مسجد مبارک۔مسجد اقصی - منارة امسیح' شامل ہیں۔ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہئے۔تا کہ خدا تعالیٰ ان کے برکات سے مستفیض کرے۔منارة امسیح کے پاس جب جاؤ تو یہ نہ سمجھو کہ یہ منارہ ہے۔بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسیح موعود اُترا۔اسی طرح مسجد اقصیٰ میں جب جاؤ تو یہ نہ سمجھو کہ وہ اینٹوں اور چونے کی ایک عمارت 44