قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 18 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 18

پر شہ نشین بنا دیا گیا۔جہاں حضرت اقدس علیہ السلام نماز مغرب کے بعد اپنے خدام میں رونق افروز ہوتے۔اور علم و عرفان کے موتی بکھیرتے تھے۔یہ پاک اور روح پرور محفل در بار شام کے پیارے نام سے یاد کی جاتی ہے۔تاریخ احمدیت جلد اول، صفحہ 220-219، مطبوعہ از قادیان سن 2007ء) اسی با برکت چھت سے متعلق بعض تاریخی ایمان افروز واقعات بھی تحریر ہیں: 1۔پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے لئے رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج کو گرہن لگنے اور ان کے بطور نشان ظہور کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اس پیشگوئی کے عین مطابق مورخہ 13 /رمضان 1311 ہجری مطابق 21 / مارچ 1894ء کو چاند گرہن لگا۔اور مؤرخہ 28 /رمضان 1311 ہجری مطابق 6 ا پریل 1894ء کو سورج گرہن لگا۔مسجد مبارک کو یہ سعادت اور خوش نصیبی حاصل ہوئی کہ جس امام مہدی کے لئے یہ عظیم الشان نشان ظاہر ہوا انہوں نے اس مبارک چھت پر سے سورج گرہن کا مشاہدہ فرمایا۔چنانچہ حضرت خلیفۃ ابیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اتنا کامل یقین تھا کہ ضرور بالضر ور سورج آج گہنایا جائے گا۔یہ ناممکن ہے کہ یہ بات ٹل جائے۔آپ نے مسجد مبارک کی چھت پر پورا اہتمام کیا ہوا تھا اور شوق سے آنے والے زائرین اور قریب رہنے والے خدام عشاق صحابہ 18