قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 4
میں شہرت پا گیا۔اور جماعت احمدیہ کا ابتدائی اور دائمی مرکز بھی قرار پایا۔1947ء میں تقسیم ملک سے قبل قادیان کے گردونواح بٹالہ، امرتسر ، گورداسپور، پٹھانکوٹ میں لینے والے مخالفین احمدیت قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دیتے تھے۔منارة اسح کو گرانے اور بہشتی مقبرہ کی قبور کو اکھیڑنے کی بابت قسمیں کھاتے تھے۔مگر تقدیر الہی نے ان کے بزرگوں کی قبور کا نام ونشان مٹا دیا۔کہاں گئی محمد حسین بٹالوی کی قبر اور ثناء اللہ امرتسری کی منزل و مسکن ؟ ان شہروں میں ان کا نام بھی باقی نہیں رہا۔لیکن اس کے بالمقابل جسے جھوٹا کہا گیا اس کی قبر پر ہر روز دعا کرنے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔منارۃ اُسیح سے پانچ وقت اذان بلند ہوتی ہے جو نہ کبھی بند ہوئی اور نہ ہوگی۔انشاء اللہ تعالیٰ ! اگر یہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بے شمار براہین صداقت میں سے ایک عظیم برہان نہیں تو اور کیا ہے؟ قادیان کی اہمیت حدیث مصطفی اللہ الی یتیم کی روشنی میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی لا یہ تم نے مسلمانوں کو فرمایا تھا: لَا تَشَدُ الرَحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِى هَذَا وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الأقصى - ( صحیح مسلم کتاب الحج باب لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلیم نے فرمایا 4