پیاری مخلوق — Page 9
علاقوں میں دن میں سورج کی وجہ سے سخت گرمی پڑتی ہے اور رات میں خنکی ہو جاتی ہے۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔صحرا میں اگر کہیں پانی مل جائے تو درخت اُگ جاتے ہیں۔یہ عام طور پر کھجور ہوتی ہے۔کیونکہ اس کی جڑیں نیچے دُور تک زمین میں چلی جاتی ہیں۔ایسے علاقے کو نخلستان کہتے ہیں۔اب ہم سر سبز و شاداب میدانوں سے گزر رہے ہیں۔یہاں پر زمین کی مٹی ایسی ہے جس میں پانی کے ذرات جمع ہو جاتے۔یوں اس کی وجہ سے سطح زمین پر پود سے لگ جاتے ہیں یہی میدان کاشت کاری کی وجہ سے کھیتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اگر اُن کے قریب سے دریا گزرتا ہے یا اس دریائی پانی کو نہروں کے ذریعے دُور دُور تک پہنچایا جاتا ہے۔کئی کھیت ایسے بھی ہیں جہاں ٹیوب ویل کے ذریعہ زمین کا پانی فصلوں کو سیراب کرتا ہے۔یہ باغات ہیں۔کیونکہ یہاں پر پھل اگائے گئے ہیں۔ایسی زمین جو ہموار ہو اور اس میں پہاڑ یا گھاٹیاں نہ ہوں میدان کہلاتی ہیں۔یہاں موسم کے حساب سے بارش ہوتی ہے۔بڑھتے بڑھتے ہم ایسے علاقے میں پہنچ گئے جہاں زمین کی وہ شکل دکھائی دے رہی ہے جس پر گھنے اور بلند آسمان سے کی باتیں کرتی ہوئی شاخوں کے درخت ہیں۔یہ جنگلات ہیں۔ان میں سے بعض درخت اتنے گھنے ہوتے ہیں کہ سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی۔ان علاقوں میں عموما دوپہر کو روزانہ موسلادھار بارش ہوتی ہے۔