پیاری مخلوق — Page 42
۴۲ کی کڑک اس کو لرزا دیتی ہے۔یہی خوف اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کو اپنا مالک جان لے اور ہر بڑی اور ناسمجھ میں آنے والی چیز کو خالق سمجھ لیتا ہے۔پہاڑوں کی دریاؤں کی پرستش کرتا ہے۔چاند ، سورج ، ستاروں کو خُدا جانتا ہے کبھی کسی کو سجدہ کرتا ہے تو کبھی کسی کے آگے گڑ گڑاتا ہے۔اس کا خدا جو اس کی بے حد محبت کرتا ہے ساری مخلوقات سے زیادہ اس کو عزیز رکھتا ہے۔اس لئے وہ اس بے قرار انسان کو سنبھالتا ہے۔اور اپنے نبیوں کے ذریعہ اپنا پتہ دیتا ہے۔اپنے تک پہنچنے کا راستہ بناتا ہے۔پھر اس راہ کی بھی خود ہی راہنمائی کرتا ہے۔اپنی محبت دلوں میں ڈالتا ہے۔خود اس سے محبت کرتا ہے۔یہ جو نبی ہوتے ہیں۔ان کی فطرت عام انسانوں کی نسبت بہت نمایاں ترقی کرتی ہے۔اور اس ترقی کی وجہ سے وہ اس وقت کے انسانوں میں اخلاقی لحاظ۔بلند ہوتے ہیں۔پھر وہ اس فطری پاکیزگی کی وجہ سے کبھی زندگی میں کسی مخلوق کے آگے نہیں جھکتے۔بلکہ ہر چیز کو خادم جان کر اپنے رب کو جو ان سب کا خالق ہے پہنچانا چاہتے ہیں۔ان کی تڑپ پڑھتی ہے۔بے قراری ترقی کرتی ہے۔وہ اپنے وجود سے بے نیازہ ہو کہ بیس خدا تعالیٰ کو پا لینا چاہتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ ان کو اپنا پتہ دیتا ہے۔اپنے فرشتوں کے ذریعہ پیغام بھیجتا ہے کہ میں تمہارا خالق ہوں۔کیونکہ وہ نبی اپنے دور کے انسانوں میں نمایاں طور پر انسانی صفات رکھتے ہوئے اخلاق اور کردار میں بلند ہوتا ہے۔وہ ہر غلطی سے پاک ہوتا ہے