پیاری مخلوق — Page 37
۲۷ یوں ہم انسان دوسری تمام مخلوقات سے الگ ہو گئے۔انسانیت ہمارا شرف قرار پایا۔اور اللہ تعالیٰ کی پیاری اور بہترین مخلوق قرار پائے۔آئیے اب دیکھیں کہ انسان کیسے بنا۔پہلے یہ قابل ذکر نہیں تھا ہے یعنی ایسی حالت میں تھا کہ اس کے وجود کی کوئی شکل یا پہچان نہ تھی کہ اس کو بیان کیا جا سکے۔لیکن جب مٹی بنی تو اس کی ابتداء ہوئی۔مٹی سے پانی ملا تو کچھ حالت اور نمایاں ہوئی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے بننے کے چھ درجہ بنائے ہیں ہیے ساتھ ہی اس کو بتایا کہ تم کچھ نہیں تھے۔بعد میں میں نے تم کو ترقی دی جس طرح چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر اور چیزیں نہیں۔بالکل اسی طرح انسان کی ابتدا کبھی ان۔۔ذرات سے ہوئی۔لیکن انسانی ذرات بالکل الگ تھے اور دوسری مخلوقات کے الگ۔ان ذرات میں ترقی کرنے کا مادہ تھا۔جی یہ کسی اور مخلوق میں یہ صفت موجود نہیں ہے۔پھر ایک وقت ایسا بھی تھا۔جب انسان کی حالت ٹھیکری کی طرح ہوئی۔گویا ده سخت پتھروں سے چھٹا رہا۔آخر بڑھتے بڑھتے خُدا نے اس کو نظر آنے والا۔پہچانا جانے والا وجود عطا کیا۔لیکن اس وجود میں کوئی عقل اور سمجھ نہیں تھی۔یہ صرف آواز نکال لیتا اور دیکھا جا سکتا تھا۔اس کے جسم میں دماغ تو تھا۔لیکن ابتدائی حالت میں۔وہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔گویا پہلے انسان نے جسمانی طور پر ترقی کی اور جب وہ جسمانی لحاظ سے مکمل انسان بن گیا۔تب دماغی ترقی کا دور شروع ہوا۔اس طرح اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔وہ آوانہ کو سمجھنے لگا۔پہچاننے لگا۔اسی طرح وہ دیکھنے لگا ه : سورۃ دہر آیت : ۲ : : سوره مومنون آیت ۱۳ تا ۱۵ به