پیاری مخلوق — Page 54
۵۴ فرض کر لیں کہ بجلی ایک صفت ہے۔اس کی ایک طاقت نور یعنی روشنی ہے جو اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے۔اور اس روشنی کی بھی الگ الگ قوت ہے۔آپ اسی ہولڈر میں مختلف پاور کے بلب لگاتے جائیں۔روشنی بڑھتی جاتی ہے۔بجلی کی طاقت دو سو بیس وولٹ پر چھوٹے بلب سے لے کر ایک ہزار واٹ کا بھی بلب جلتا ہے۔یہ بلب کی طاقت پر منحصر ہے کہ وہ کتنی بجلی لے کر کتنی روشنی مہیا کرتا ہے۔لیکن ایک چیز اور کہ ایک سو بینی وولٹ طاقت والی چیزوں کو اگر دوسو بنیں دولٹ دے دیا جائے تو وہ جل کہ خاکستر ہو جاتی ہے۔یعنی ہر چیز کی اپنی استعداد بھی ہے۔زیادہ طاقت اس کو جلا دیتی ہے۔پھر بجلی کی ایک طاقت گرمی (حرارت) دینا ہے۔جتنی روشنی بڑھتی جاتی ہے۔اُسی قدر گرمی بھی پیدا ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بجلی میں ایک اور طاقت ہے کہ جب وہ لوہے میں سے گزرتی ہے تو اس کے تمام منصفی بارہ کا رخ ایک طرف اور مثبت بار کا رُخ دوسری طرف کر دیتی ہے جس کی وجہ سے عام لوہے کا ٹکڑا مقناطیس بن جاتا ہے۔اس کی قوتِ جاذبہ کی کشش کی وجہ سے دوسرے لو ہے کے ٹکڑے اس کی طرف کھینچے لگتے ہیں۔لیکن بجلی کی کو کسے کٹ جانے کی وجہ سے لو ہے میں سے یہ طاقت ختم ہو جاتی ہے۔پھر اس بجلی میں یہ طاقت بھی ہے کہ مسلسل اس کی کرو کسے گزرنے کی وجہ سے لوہا بھی مستقل طور پر مقناطیس بن جاتا ہے۔پھر یہ دکٹ بھی جائے تو اس کی کشش بہ قرارہ رہتی ہے۔