پیاری مخلوق — Page 53
۵۳ یہ جاننے کے بعد آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا خدا ہی بہتر طور پر جانتا ہے۔کہ کسی دور اور کسی زمانے کے انسانوں کو کونسی صفات کی ضرورت ہے۔اور ان کے ذہن ان صفات کے ظہور کو کس طرح قبول کرتے ہیں۔پھر ان میں کتنی طاقت ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے اعمال کو درست کریں اور ان کے اخلاق میں اس کی جھلک نظر آئے۔لے اس لئے اللہ تعالیٰ اس دور کے نبی کو وہی طاقت عطا کرتا ہے اور زمانے کی ضرورت کی صفات اس میں ظاہر ہوتی ہیں۔نبی کے ذریعے اس دور کی اہلی جماعت کو بھی حصہ دیتا ہے۔اسی طرح ہر دور کے ہر خطے کے انسانوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کی کوئی نہ کوئی جھلک دیکھی۔اور یہ کرۂ ارض کسی نہ کسی رنگ میں خُدا کے نور سے منور ہوتا رہا۔ایک اور بات کی وضاحت کردوں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت ہے۔اس کے کئی رنگ ہیں۔اور ہر رنگ کی بھی بے شمار قو تیں ہیں۔اس کو سمجھنے کے لئے وہی پہلے والا اصول لے لیں۔: آپ سوچ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کی جھلک انسان کے اخلاق میں کیسے نظر آتی ہے ؟ جب آپ کسی انسان کو بھو کے کو کھانا کھلاتے دیکھتے ہیں تو اپنے خدا کی صفت رزاقیت سے حصہ لیتے ہیں۔پھر کسی کو بغیر سوال کئے اس کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔تو صفت ربوبیت سے اثر قبول کر تے ہیں۔یوں انسان میں خدا کی صفات کی جھلک دکھائی دیتی ہے :