پیاری مخلوق — Page 47
۴۷ اسی وجہ سے وہ عام مخلوقات سے بہت آگے بڑھ گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں بنیادی طور پر نیکی رکھی لیکن اس کو اختیار بھی دیا کہ چاہے تو نیک راہ اختیار کرو اور اپنے خُدا کے محبوب بن جاؤ۔اور چاہو تو بدی کے راستے پر چل پڑو۔اور انسانیت کے مقام سے گر جاؤ۔اب نیک فطرت لوگوں کو دیکھیں تو ان میں پاکیزہ جذبات پائے جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے اخلاق پیدا ہوئے۔اخلاق کو عمل میں ڈھالا تو کر دار بنا۔اس طرح ایک انسان نیکی پر چلنے کی وجہ سے با اخلاق با کردار بنا۔اور خالق کی تلاش سے روحانی میدان میں داخل ہوگیا اور آہستہ آہستہ ترقی کر کے باخدا انسان بنا۔خالق کی تلاش صرف انسان کی فطرت میں ہے کبھی کسی اور جاندار نے اپنے خالق کو اپنے رب کو تلاش نہیں کیا۔جبکہ ایک انسان خدا تعالے کی رضا اور اس کے فضل کی وجہ سے ترقی کر کے باخدا ، صالح انسان بنا - ولی یعنی خدا کا دوست بنا اور کچھ شہید ہوئے۔یعنی خدا کی راہ میں جان کی قربانی دی۔پھر ان انسانوں میں سے ہی صدیق ہوئے۔ان کا ہر جذبہ ، ہر عمل صرف اور صرف اپنے خُدا کے لئے تھا۔یہ اپنے تمام جذبات میں سچے تھے۔سچ بولتے تھے۔سچ سننے تھے۔سچائی کو دیکھتے تھے وہ سچ کے لئے جیتے اور سچ کے لئے مرتے تھے۔اسلئے صادق یعنی سچا ہونے کی وجہ سے صدیق کہلائے۔وہ انسان جو صدیق تھا۔خدا تعالیٰ کی رحمت اس پر برسی اور اس کی نیک فطرت نے ترقی کی۔خدا تعالیٰ کے پیار نے اس کو چن لیا۔وہ روحانی میدان میں اور آگے بڑھا اور تڑپ کر چاہا کہ وہ صرف خدا کا ہو جائے۔تو اللہ تعالٰی نے بھی اس کو اپنی محبت