پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 39 of 60

پیاری مخلوق — Page 39

۳۹ ہو گئی۔مگر بعض چیزیں اتفاقی طور پر یا حادثاتی طور پر سامنے آئیں۔یوں لگتا ہے که خداتعالی اس طرف اپنے فضل سے توجہ دلانا چاہتا تھا۔مثلاً آگ جلانے والا پتھر چقماق وغیرہ۔- یوں تہذیبوں نے جنم لیا۔تمدن نے ترقی کی لیکن جب انسان کو بجلی میں دسترس حاصل ہوئی تو پھر ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی۔اور آج کے انسان کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اپنے آرام - سکون۔چین کے لئے کیا کچھ بنالیا۔اب وہ خلا میں اسٹیشن بنا رہا ہے اور نئی دنیائیں تلاش کر رہا ہے یہ سب اسی جذبہ ترقی کی وجہ سے ہوا۔جو خُدا نے اس کی فطرت میں رکھا تھا۔اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے جاندار جو انسان کے ساتھ ایک لمبے عرصے سے چلے آ رہے ہیں وہ آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے سینکڑوں سال پہلے تھے۔شہر - چیتے اسی طرح جنگلوں میں رہتے ہیں۔شکار کرتے ہیں۔خون پیتے ہیں۔اور کچا گوشت کھاتے ہیں۔مگر انسانوں کی طرح کوئی بھی آگے نہیں بڑھا۔کہ گوشت پکا کر کھائیں۔اور اپنی ضرورت کے جانوروں کو پال لیں اور وقت پڑنے پر استعمال کریں۔بندر شروع سے درختوں پر رہتے آرہے ہیں۔ہزاروں سال سے بندر لنگور۔گوریلے کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ایسے ہی گائے، بھینس ، بکریاں بھی جیسے زندگی گزار رہی تھیں ویسے ہی اب بھی ہیں کبھی سردی سے بیچنے کا لباس نہیں بنایا۔نہ سبزیوں کو پکایا۔نہ سالن بنایا۔