پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 40 of 60

پیاری مخلوق — Page 40

۴۰ پرندوں کو دیکھیں۔سب گھونسلے بناتے ہیں۔سب کے گھونسلے ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہوتے ہیں۔مگر ان میں ذرہ برابر ترقی نہیں ہوئی۔بیٹے کا گھون۔اسی طرح بنا ہوا ہوگا۔اور چڑیوں کا تینگوں کا۔کبھی اونٹ کو بستر پر لیٹے ہوئے۔ہاتھی کو صوفے پر بیٹھے ہوئے۔شتر مرغ کو ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے۔نہیں دیکھا ہوگا۔اس لئے آپ کو ماننا پڑے گا۔کہ خدا تعالٰی نے ہر جاندار کے ذرات میں جو فطرت ڈالی وہ اُسی کے مطابق جی رہے ہیں۔لیکن انسان کی فطرت میں جو ترقی کی صفت رکھدی۔اس کے مطابق وہ مسلسل ترقی کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ عقل کی ابتدا ہوئی۔اس میں علم کی شمع نے راہ دکھائی تو فہم و فراست نے جنم لیا۔یوں رفتہ رفتہ وہ اس منزل کی طرف جا رہا ہے جہاں اس کا خالق سے جانا چاہتا ہے۔جب اس کا ذہن اس قابل ہوا کہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھنے لگے اور اس صلاحیت سے فائدہ اُٹھائے۔تب اللہ تعالٰی نے اپنے پیار ہے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ کو جاری کیا۔ساتھ ہی اس کو حق دیا کہ وہ اپنے اس اختیار کو بھی استعمال کرے کہ چاہے تو مانے اور چاہے تو انکار کر دے۔چونکہ انسان نیک فطرت لے کر پیدا ہوا ہے اس لئے اس کی فطرت میں اخلاق چھپے ہوئے ہیں۔اچھی بات جو فطرت کے مطابق ہو۔اخلاق کہلاتی ہے۔اسی طرح جب وہ کسی کو دکھ میں دیکھتا ہے تو فطری طور پر اس کی مدد کو دوڑتا ہے۔یہ جذبہ ارحم ہے