پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 27 of 60

پیاری مخلوق — Page 27

۲۷ جو دردوں کا علاج ہے۔- تیسرا قبیلہ زمین پر رینگنے والوں کا ہے۔یہ زمین کے متوازی حرکت کرتے ہیں ان میں سانپ۔مچھلی۔گرگٹ پیچھو وغیرہ ہیں۔اگر آپ صرف سانپ کے خاندان میں ہی چلے جائیں تو اس کی بہت ساری قسمیں ہیں۔یہ انتہائی چھوٹے دھا گے کی طرح باریک سے لے کر بڑے کو برا اور شیش ناگ تک ملیں گے۔ان میں سے بعض بڑے خوبصورت اور چمکیلے ہوتے ہیں۔سانپوں کی مرغوب غذا دودھ۔مینڈک - چو ہے اور خرگوش ہے۔ان کی ایک نسل کے بارہ سے میں بڑی حیرت کی بات بتاتی ہوں۔یہ خاموشی سے چھپ کر شکار کے انتظار میں رہتے ہیں۔جیسے ہی خرگوش نظر آئے تو اپنی دُم کو تھوڑا اونچا کر کے ہلاتے ہیں جس کی وجہ سے گھنٹیوں کی آوانہ آتی ہے۔اس آوانہ پر خرگوش محو ہو جاتا ہے۔یہ دم ہلاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔اور شکار کو پکڑ لیتا ہے۔پھر شیش ناگ جو سانیوں کا بادشاہ کہلاتا ہے اس کے سر پر سانپ کا ہی تاج ہوتا ہے۔ایک دھا گے کی طرح کا باریک اور چھوٹا سانپ کنڈلی مارکر اس کے سرپر بیٹھا رہتا ہے جس کی وجہ سے شیش ناگ گردن اُٹھا کر چلتا ہے پھر یہ بہت چمکیلہ اور سیاہ ہوتا ہے۔بہت زہریلا اس کا بچا ہو اوو دوور زہر کی وجہ سے منیلا نظر آتا ہے۔چونکہ یہ قبیلہ عمو گا زہر یلے جانداروں سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن یہ زہر بھی انسان کی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ان کی کھالیں بہت مہنگی ہوتی