پیاری مخلوق — Page 10
یہ گھاٹیاں ہیں۔پہاڑوں کے درمیان کے راستے۔اور یہ وادیاں ہیں۔بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان پائی جانے والی زمین۔یہ اس کی ڈھلوان سے ہوتی ہوئی میدان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ان وادیوں کے کے حسن کا کوئی جواب نہیں۔یہاں پر پھول اور پھل کثرت سے ملتے ہیں کیونکہ پہاڑوں پر پائی جانے والی برف پگھل پگھل کر اس کو سیراب کرتی ہے اس کے علاوہ یہاں پر وقتاً فوقتا بارش بھی ہوتی رہتی ہے۔یہی زمین آہستہ آہستہ بلندی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔یوں ہم پہاڑوں پر جا رہے ہیں۔چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں - بڑے بڑے اُونچے اُونچے پہاڑ۔ان پہاڑی علاقوں کی سطح سخت بھی ہے اور نرم بھی۔سخت پہاڑ سخت چٹانوں سے بنتے ہیں۔ان میں انسانوں کے لئے بڑے بڑے خزانے دفن ہیں۔ان ہی کے میلنوں کو چاک کر کے ہیرے جواہرات - دھاتیں اور قیمتی پتھر نکلتے ہیں۔اور بعض جگہ سطح زمین نرم ہونے کی وجہ سے جنگلات پیدا ہوتے ہیں۔یہ خود ایک بڑی دولت ہے۔پہاڑ ہمارے ملکوں کے لئے فصیل کا کام بھی دیتے ہیں۔بادلوں کو روک کر بارش برساتے ہیں۔تیز و تند ہواؤں کے طوفانوں کو اپنے سینہ پر رد کتے ہیں۔گویا یہ زمین کسی بھی شکل میں ہو انسانوں کے کام آتی ہے۔صحرائی علاقے عمو گا تیل کا خزانہ رکھتے ہیں۔سرسبز میدان نہ صرف یہ کہ جڑی بوٹیاں بلکہ غذا کا ذریعہ بھی ہیں۔جنگلات فضا کو صاف رکھتے ہیں اور موسم کو تبدیل کرنے نہیں