پیاری مخلوق — Page 41
۴۱ جو اخلاق کا حصّہ ہے۔اپنے دین کی یا اپنے ملک کی یا ماں باپ رشتہ داروں کی برائی سُن کر جو غصہ اور جوش پیدا ہوتا ہے۔یہ غیرت ہے۔پھر کسی کام کو مسلسل کر تے رہنا مستقل مزاجی اور انبیاء علیہم السلام کو مان کر ان کے احکامات پر عمل کر کے زمانے کی مخالفت برداشت کرتا ہے۔پھر انس راہ میں ہر دکھ تکلیف اٹھا کر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔یہ قربانی اور حوصلہ مندی ہے۔دین کو پھیلا نے کے لئے لوگوں کو ملتا جلتا ہے اور ہدایت پہنچاتا ہے۔یہ جدید تبلیغ ہے کسی کو اچھا سمجھ کہ اس کو نمونہ بنا کر اپنے آپ کو اسی طرح بنانا۔اس سے محبت کرنا۔اس کی خاطر ہر دکھ اُٹھانا اور اس کے لئے غیرت دکھانا۔یہ عشق ہے۔ایسے ہی نہ جانے کتنے جذبات ہیں جو انسان کو دئے گئے۔ان کا صحیح موقع پر استعمال اخلاق کہلایا۔پھر اخلاق کے میدان میں مسلسل برائی کو چھوڑتے ہوئے نیکیوں کو اختیارہ کر تے چلے جانا۔انسان کو با اخلاق بنا دیتا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ اس بہترین مخلوق کو بالکل چھوٹے بچے کی طرح انگلی پکڑ کمر چلا رہا تھا کبھی ایک میدان میں لے جاتا کبھی دوسرے میں۔اور کسی بھی مشکل کے وقت اس کو نہیں چھوڑا۔گرنے نہیں دیا۔سنبھالے رکھا۔پھر اس کا رب اس یعنی انسان کو ایک اور میدان میں سے جاتا ہے۔جہاں اس کی جستجو بڑھتی ہے کہ اس کا بنا نے والا یعنی خالق کون ہے ؟ آکی عقل اتنی ترقی کر چکی ہے۔اور یہی جستجو اس میدان کی سواری ہے۔راہنما ہے جب یہ پیدا ہوتی ہے تو پھر وہ دیوانوں کی طرح صحراؤں میں دوڑتا ہے۔پہاڑوں پر چڑھتا ہے۔دریاؤں کے پانی کو دیکھتا ہے کبھی بادلوں کی گرج سے ڈرتا ہے اور کبھی بجلی