پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 30 of 60

پیاری مخلوق — Page 30

I - آخری قبیلہ دودھ پلانے والے جاندار ہیں۔یہ عموٹا چار ٹانگوں پر چلتے ہیں۔اس میں بڑے بڑے خونخوار جانور بھی ہیں۔جیسے شیر، چیتا، ریچھ وغیرہ اور معصوم جانور خرگوش کنگرو - سرن، بارہ سنگا وغیرہ۔یہ بہت جلد انسان کے دوست بن جاتے ہیں۔گائے بھینس بکری وغیرہ کو دودھ اور گوشت کے لئے پالا جاتا ہے۔جبکہ ہیں۔گدھا۔گھوڑا۔اونٹ وغیرہ سواری کا کام دیتے ہیں۔کھیتوں میں ہل چلاتے۔وزن اُٹھا تے ہیں۔ہم گھروں میں بلیاں۔کتے پالتے ہیں جو نہ صرف چوہوں سے بچاتے بلکہ پہرہ بھی دیتے ، شکار میں مدد کرتے اور اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ہا بھی بڑا ہی کار آمد جانور ہے۔درخت اٹھاتا ہے، تنے گراتا ہے پھر انسان نے اپنی عظمت و شان کے اظہار کے لئے ان کا استعمال کیا۔اپنے مخالفین پر رعب ڈالنے کے لئے بھی ان کو مقابلہ میہ لایا گیا۔ہاتھی والے ایہہ ہہ بھی تو تکبیر میں خانہ کعبہ کو گرانے کے لئے نو (۹) ہاتھی رہا تھا۔اتنے پیڑ سے طاقتور جانور کو انسان نے سکھا کر سیدھا کہ سرکس میں کہ تب کر وائے۔پھر گھروں میں کام کرنے کے لئے بندروں کی ایک قسم چیمپینزی کو تیار کیا جو ایک اچھا معاون بنا۔اس قبیلہ کے جانور جہاں بڑ سے طاقتور ہیں۔وہاں یہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق انسان کے آگے جھکے رہتے ہیں۔اس کی خدمت کرتے اور جب اس کو گوشت کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اونٹ ،گائے۔ہیں۔بکری وغیرہ اپنی گردن زمین پر رکھ دیتے ہیں اور یہ ذبح کمر کے ٹکڑے بنا لیتا ہے۔اگر ان کی فطرت میں اطاعت نہ ہوتی۔تو جس طاقت کے یہ مالک ہیں انسان کے بس میں نہیں