پیاری مخلوق — Page 31
۳۱ تھا کہ ان پر قابو پاسکتا۔جب انسان کو خوبصورت لباس کے لئے کھال کی ضرورت پڑی تو یہ اپنی کھال پیش کر دیتے ہیں۔ان میں شیر چیتے۔لومڑی۔خرگوش - ہرن - زیبرا ہیں۔سردی سے بچاؤ کے لئے ریچھ اور سمور کی کھال کام آتی ہے۔گائے اور بھینس کے چھڑے سے جو تے تیار ہوتے ہیں۔ٹوپیاں اوڑھی جاتی ہیں۔پرس نتے ہیں۔گھروں میں زہنیت کو بڑھانے کے لئے کھا لیں بچھائی جاتی ہیں۔آپ غور کریں کہ یہ جانور اپنی فطرت کی اطاعت کی وجہ سے یہ سب پیش کرتے ہیں۔اور تو اور ان کے سر ہینگ سجاوٹ کیلئے استعمال ہوئے انکی ہڈیوں سے فاسفورس اور چربی سے گھی بنا۔ان کے بال ادن بنانے کے کام آئے۔گویا یہ جاندارہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور قانون فطرت کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے چلے جارہے ہیں۔اور انسان جس کو عقل سمجھ سے نوازہ گیا۔اپنے خدا سے گلہ شکوہ ہی کرنے میں مصروف رہا۔ہمیں چاہیے کہ اپنے چاروں طرف بکھری بے شمار نعمتوں کو دیکھ کہ ان سے فائدہ اُٹھائیں اور شکر ادا کریں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم انسانوں اور جانداروں میں کیا کیا فطری مماثلت ہے اور ہم نے ان سے کیا کیا سیکھا ہے اور سیکھ سکتے ہیں۔اور کیا کیا فائد سے اٹھائے ہیں۔انسان نے جانوروں سے بولنا سیکھا۔اس کی آوازوں کو سُن کر آوازیں نکالیں تو بولیاں بن گئیں۔ہاتھیوں سے سردار کی تعظیم سیکھی جاسکتی ہے۔کہ وہ سردار کے بغیر حرکت نہیں کرتے۔اور سردار کے مرنے کے بعد دوسرا سردار بنا لیتے ہیں۔یہ جمہوریت کا درس ہے۔پرندوں سے مُرسیکھا۔بٹے سے بنتا۔مکڑی سے جال تننا شہد کی مکھی سے