آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 73
عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور مسیح کی قوم نے اس وقت ان کو خدائی کا درجہ دے دیا۔جب وہ فوت ہوکر اس دنیا سے جاچکے تھے۔اور جیسا کہ پہلی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے دنیا کو یہ بتادیا کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے معنے محض یہ ہیں کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہو کر اور باعزت ہوکر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔تیسری خبر یہ دی گئی تھی کہ شیطان اس کے ذریعہ سے کچل دیا جائے گا۔تمام نبیوں میں سے محمد رسول اللہ صلی یہ تم ہی ایک ایسے نبی ہیں جنہوں نے شیطان کے کچلنے کے ذرائع کو اختیار کیا اور بنی نوع انسان کی پاکیزگی کیلئے صحیح سامان بہم پہنچائے۔مگر اس کی تفصیل کا ابھی وقت نہیں۔اس کی تفصیل قرآن شریف کی تفسیر سے ملے گی یا کسی قدر میں آئندہ اسی دیباچے میں بیان کروں گا۔مگر ایک موٹی بات تو ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کسی نبی نے بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی دعا اپنی امت کو نہیں سکھائی سوائے محمد رسول صلی یا یہ ستم کے۔مسلمان اپنے کاموں میں اٹھتے بیٹھتے شیطان اور اس کے حملوں سے پناہ مانگتے ہیں۔یہ تعلیم گذشتہ انبیاء میں سے کسی کے ہاں نہیں پائی جاتی۔پس جس قوم کو شیطان کا سر کچلنے کی ہدایت دن اور رات ملتی رہی ہو اور جس کے دل میں شیطانی حکومت کو توڑنے کا احساس ہر وقت زندہ رکھا جاتا ہو ظاہر ہے کہ وہی شیطان کو مارنے کی اہل سمجھی جائے گی اور اسی قوم کا نبی شیطان کو مارنے والا کہلائے گا۔یہ تو نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا یہ نہ ا که شیطانی وسائل اس دنیا سے بالکل مٹ جائیں۔کیونکہ اس کے بغیر تو ایمان کی قدر ہی کوئی باقی نہیں رہتی۔شیطان کے مارنے کے معنی یہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ نیکی کو دنیا 73