آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 64

میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کا میوہ لاوے دی جائیگی۔جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔جب سردار کا ہنوں اور فریسیوں نے اس کی یہ تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے ، کہ ہمارے ہی حق میں کہتا ہے اور انہوں نے چاہا کہ اسے پکڑ لیں پر عوام سے ڈرے کیونکہ وے اسے نبی جانتے تھے۔(آیت ۳۳ تا ۴۶) اس پیشگوئی کا پہلے بھی اشارتاً ذکر آتا رہا ہے۔یہ تمثیل جو حضرت مسیح نے بیان فرمائی ہے اس میں آپ نے انبیاء کی تاریخ شروع سے لے کر آخر تک تمثیلاً دہرادی ہے۔جیسا کہ خود انجیل کی عبارت سے ظاہر ہے۔تاکستان سے مراد دنیا ہے۔باغبانوں سے مراد بنی نوع انسان ہیں اور مالک کے ٹیکس سے مراد نیکی اور تقویٰ اور خدا کی عبادت کرنا ہے۔ملازموں سے مراد اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں جو یکے بعد دیگرے دنیا میں آتے رہے۔خدا کے بیٹے سے مراد خود مسیح ہیں جو انبیاء کے ایک لمبے سلسلے کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئے مگر باغبانوں نے ان کو صلیب پر لٹکا دیا اور ان کے پیغام کی طرف توجہ نہ کی۔اس کے بعد لکھا ہے کہ وہ کونے کا پتھر ظاہر ہو گا جسے راجگیروں نے ناپسند کیا۔یعنی اسمعیل کی اولا د جن کو بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے ان میں ایک نبی ظاہر ہوگا اور اسی کو خاتم النبین ہونے کا فخر حاصل ہوگا۔اس کے ذریعہ سے تمام شریعتوں کو ختم کر دیا جائے گا اور وہ آخری شریعت لانے والا ہوگا۔بنواسرائیل کو یہ بات 64