آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 47
رلی (الانفال :۱۸) جب بدر کے موقعہ پر تو نے کنکر اٹھا کر دشمن کی طرف پھینکے تو ان کنکروں کو پھینکنے والا تیرا ہاتھ نہیں تھا بلکہ خدا کا ہاتھ تھا۔اسی طرح آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ (الفتح :(۱) جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔یعنی تو اللہ تعالیٰ کا مظہر ہے۔پس اس پیشگوئی کے مطابق اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو محمد رسول اللہ ا سی ایم ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔پھر لفظ قادر بھی آپ ہی کی ذات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنے سارے دشمنوں کو زیر کر لیا اور تمام مخالفتوں اور عداوتوں کا سر کچل دیا۔چوتھا نام ابدیت کا باپ بتایا گیا ہے۔یہ علامت بھی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جنہوں نے یہ دعوی کیا کہ آپ کی تعلیم قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کہ جس آنے والے مسیح کی خبر دی گئی ہے وہ بھی آپ کی امت کا ایک فرد ہوگا کوئی نیا شخص نہیں ہوگا جس کی آمد کی وجہ سے آپ کی بادشاہت میں کوئی فرق یا اختلال واقعہ ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ انْ كُنتُمْ صَدِقِيْنَ قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ (سبا: ۲۹-۳۱) یعنی ہم نے تجھے صرف اس لئے بھیجا ہے تا کہ تمام بنی نوع انسان کو تو اس طرح جمع کرے کہ ان میں سے کوئی طبقہ اور کوئی زمانہ تیری تبلیغ سے باہر نہ رہے اور تو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر کے طور پر کام دے لیکن اکثر انسان تیری اس حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔پھر فرماتا ہے دشمن اعتراض کرتے ہیں کہ یہ وعدہ کہ تو سب دنیا کی طرف اور ہمیشہ کے لئے ہے۔کس طرح پورا ہوگا۔اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل 47