آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 48
دو۔اس کا جواب دیتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ تمہارے لئے ہم ایک مدت مقرر کر چکے ہیں تم نہ اس مدت سے ایک ساعت پیچھے رہ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھو گے۔یعنی وہ وعدہ عین وقت پر پورا ہو جائے گا۔یہ مدت وہی ہے جس کا ذکر سورہ سجدہ میں کیا گیا ہے۔سورہ سجدہ میں اللہ فرماتا ہے۔يُدَيرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (السجدہ : ۶) اللہ تعالی اسلام کو دُنیا میں قائم کرے گا۔پھر اسلام کا زور رفتہ رفتہ کم ہونا شروع ہوگا اور ایک دن میں جس کی لمبائی ایک ہزار سال کے برابر ہوگی وہ خدا تعالیٰ کی طرف چڑھنا شروع ہوگا اور اس میں کمزوری اور اضمحلال کے آثار پیدا ہو جائیں گے۔اسلام کی ترقی کا زمانہ قرآن کریم سے بھی اور احادیث سے بھی تین سو سال کا معلوم ہوتا ہے اس میں ہزار سال شامل کیا جائے تو یہ زمانہ تیرہ سوسال کا ہو جاتا ہے۔پس سورہ سجدہ کی آیت کو ملا کر اس آیت کے یہ معنے بنتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا یتیم کا ہمیشہ کے لئے بشیر و نذیر ہونا اور تمام دنیا کی طرف ہونا تیرہ سوسال کے بعد کلی طور پر ثابت ہو گا۔ان آیات میں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تیرہ سو سال پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کا نزول ہوگا اور مسیح موعود آپ کی امت میں سے ہوگا اور چونکہ تمام انبیاء کا وہی آخری موعود ہے۔جب وہ آپ کی امت میں سے ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ قیامت تک آپ کی شریعت قائم رہنے والی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی اور شخص نہیں آئے گا اور چونکہ اس کے زمانہ میں تبلیغ اسلام پر خاص طور پر زور دیا جائے گا اور اسلام دنیا میں پھیل جائے گا۔اس لئے یہ امر اور بھی مستحکم ہو جائے گا کہ اسلام کو مٹانے والی کوئی طاقت دنیا میں نہیں۔اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اس کے مخاطب ہیں جو آہستہ آہستہ اس میں شامل ہو جائیں گے۔پس ابدیت کا باپ محمد رسول اللہ 48