آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 37

کی طرح ہو گئے اور ان کے پیسے گرد باد کی مانند جس کی طرف خود قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَدِیتِ ضَبْحًا فَالْمُوْرِيتِ قَدْحًا فَالْمُغِيرَتِ صُبْحًا فَأَثَرْنَ بِهِ نَفْعًا فَوَسَطنَ بِهِ جَمعا (العادیت : ۲-۶) یعنی ہم قسم کھاتے ہیں ان گھوڑ سواروں کی جو تیزی سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ایسی تیزی سے کہ ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے آگ نکلنے لگتی ہے اور ان کے حملہ سے گردوغبار کا ایک طوفان اٹھ پڑتا ہے اور وہ ایسی شان اور طاقت کے ساتھ اپنے دشمن کی صفوں میں گھس کر اسے مغلوب کر لیتے ہیں۔کس طرح لفظ بلفظ اس پیشگوئی کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔پھر یہ جو اس پیشگوئی میں کہا ہے کہ :- وہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اس کی بدلیوں سے تاریک ہو جاتی ہے۔“ اسی کی طرف قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( روم : ۴۲) تمام دنیا میں خشکی اور تری میں فساد اور خرابی پیدا ہوگئی ہے اور خدا تعالیٰ کے ایک مامور کے ظاہر ہونے کی ضرورت ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔قد انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًارّ سُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللَّهِ مُبَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ (الطلاق:۱۲،۱۱) یہ خدا کا رسول اس لئے آیا ہے کہ دنیا سب کی سب تاریکی میں پڑی ہے اور وہ اس کو تاریکی سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔(ج) یسعیاہ باب ۸ میں لکھا ہے:۔37