آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 34

ہوگی اور زمین کا پھل ان کے لئے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے لذیذ اور خوشنما ہوگا اور ایسا ہوگا کہ ہر ایک جو صیہون میں چھوٹا ہوا ہوگا اور یروشلم میں باقی رہے گا۔بلکہ ہر ایک جس کا نام یروشلم کے زندوں میں لکھا ہوگا مقدس کہلائے گا۔“ (آیت ۱ تا ۳) اس پیشگوئی میں اگر صیہون اور یروشلم کو استعارہ قرار دیا جائے تو جو مفہوم اس پیشگوئی کا نکلتا ہے وہ سوائے محمد رسول اللہ ایسی پی ایم کے اور کسی پر صادق نہیں آتا۔ان آیتوں میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنے والے موعود کے ساتھ شوکت اور حشمت ہوگی اور اس کو دنیا کی غنیمتیں ملیں گی اور اس کی قوم کے لوگ مقدس کہلائیں گے اور اس کے زمانہ میں کثرت ازدواج کی ضرورت ہوگی۔کیا یہ باتیں مسیح اور اس کے حواریوں پر چسپاں ہوتی ہیں؟ کیا مسیح کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھا یا محمد رسول اللہ لا یتیم کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھا؟ کیا دنیا کی غنیمتیں مسیح اور اس کے حواریوں کوملیں یا محمد رسول اللہ لا یا ایم اور انکےصحا بہ کو ملیں ؟ کیا مسیح کے زمانہ میں کثرت ازدواج کی ضرورت پیش آئی یا محمد رسول اللہ لا الہ سلم کے زمانہ میں اس کی ضرورت پیش آئی ؟ مسیح نے تو کثرت ازدواج کو نا پسند کیا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت ازدواج کومناسب حالات میں جائز بلکہ پسندیدہ کہا ہے۔آپ ہی کے زمانہ میں لڑائیاں ہوئیں اور لڑائیوں میں جوان آدمی مارے گئے اور عورتیں یا بیوہ ہوگئیں یا جوان عورتوں کے لئے رشتے میسر نہ آئے۔پس آپ نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ ایسی صورت میں مردوں کا فرض ہے کہ ایک سے زیادہ عورتوں سے شادیاں کریں تا کہ قوم میں بدکاری اور آوارہ گردی پیدا نہ ہو۔(ب) یسعیاہ نبی اپنی کتاب کے باب ۵ میں پیشگوئی فرماتے ہیں:۔34