آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 31

یہ در حقیقت موعود کی قوم کی طرف اشارہ ہے عرب لوگ کہیں قیصر کی نوکری کرتے تھے اور کہیں ایرانیوں کی نوکریاں کرتے تھے مگر خود اپنے ملک کی ترقی کا ان کو کوئی خیال نہ تھا۔یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی شما یہ تم آئے اور انہوں نے ان کے اندر بیداری پیدا کی اور ان کی روحانی اور علمی اور سیاسی اصلاح کی۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ عرب اپنے تاکستانوں کے محافظ ہوگئے بلکہ وہ دنیا بھر کے تاکستانوں کے آزاد محافظ بن گئے۔(2) اسی طرح غزل الغزلات میں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اسرائیلی سلسلہ کے لوگوں کو چاہیے کہ آنے والے موعود کو خواہ مخواہ اپنی طرف متوجہ نہ کریں ورنہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔چنانچہ لکھا ہے۔”اے یروشلم کی بیٹیو! میں غزالوں اور میدان کی ہرنیوں کی قسم تمہیں دیتا ہوں کہ تم میری پیاری کو نہ جگاؤ اور نہ اٹھاؤ جب تک کہ وہ اٹھنے نہ چاہے۔“ ( باب ۲ آیت ۷) یہی مضمون پھر باب ۳ آیت ۵ میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مضمون پھر سہ بارہ باب آیت ۴ میں بیان کیا گیا ہے ان عبارتوں کا مطلب یہی ہے کہ جب وہ نبی پیدا ہوگا تو یہود اور عیسائی بنی اسرائیل کی دو شاخیں اسے دق کریں گی اور وہ اس کو مجبور کریں گی کہ وہ ان پر حملہ کرے۔لیکن چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا یہود اور عیسائی اس کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔بلکہ خطر ناک شکست کھا ئیں گے۔حضرت سلیمان اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ دیکھ اس کو جگانا نہیں یعنی اس کو چھیڑ کر اپنی طرف متوجہ نہ کرنا۔ہاں جب وہ آپ جاگے یعنی جب خدا تعالیٰ کی مشیت چاہے کہ وہ تمہارے ملکوں کی طرف توجہ کرے تو پھر بے شک کرے مگر خود اس کو نہ چھیٹر نا۔اس لئے کہ جو قوم خود کسی نبی کو چھیڑتی 31