آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 25
والا کہہ کر وہ اسے کیا گالی دے سکتے تھے۔اس لئے وہ اس کو مذمم کہہ کر گالی دیتے تھے اور جب کبھی آپ کے صحابہ کو گالیاں سن کر جوش آتا تو آپ فرماتے تمہارے لئے جوش کی کوئی وجہ نہیں۔وہ مجھے تو گالیاں نہیں دیتے وہ تو کسی مذزم کو گالیاں دیتے ہیں۔پس وہ جس کے نام میں ہی حمد آتی ہے اور جس کی امت کی شاعری کا ایک جزو وہی نعت محمدمر یعنی ساینی پی ایم کی تعریف ) ہو گیا ہے۔کیا اس کے سوا کوئی اور شخص بھی اس پیشگوئی کا مستحق ہو سکتا ہے۔پھر لکھا ہے۔مری اس کے آگے چلی اور اس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔یہ پیشگوئی بھی محمد رسول اللہ صلی نیلم پر ہی صادق آتی ہے۔کیونکہ آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو تباہ کیا۔گو اس جگہ مری کے الفاظ ہیں جو بیماری پر دلالت کرتے ہیں مگر مراد تبا ہی اور ہلاکت ہی ہے۔کیونکہ جس ذریعہ سے بھی موت عام ہو جائے وہ مری اور وبا کہلائے گا۔پھر لکھا ہے:۔وو وہ کھڑا ہوا اور اس نے زمین کو لرزا دیا۔اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا۔“ یہ پیشگوئی بھی نہ تو موسیٰ علیہ السلام پر صادق آسکتی ہے نہ مسیح علیہ السلام پر۔موسیٰ علیہ السلام تو اپنے دشمن سے لڑتے ہوئے فوت ہو گئے اور مسیح علیہ السلام کو تو بقول عیسائیوں کے ان کے دشمنوں نے پھانسی دے دیا۔جس نے زمین کو لرزہ دیا اور جس کی نگاہ نے قوموں کو پراگندہ کر دیاوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے خود آپ نے دعوئی فرمایا ہے۔نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ل خدا تعالیٰ نے مجھے رعب عطا فرما کر میری مدد کی ہے۔میں جہاں جاؤں ایک مہینہ کے فاصلہ تک دشمن ( بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجد او طهورًا) 25