آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 23

بہت بری طرح مسلمانوں سے ہارے اور ان کی تلواروں اور کمانوں کی تاب نہ لا کر نہایت ذلت سے پسپا ہوئے۔اس پیشگوئی کے اوپر صاف لکھا ہے : ”عرب کی بابت الہامی کلام۔اور اس میں تیما اور قیدار کو عرب کا علاقہ قرار دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق ۱۴ے برس قبل مسیح جو یسعیاہ کا زمانہ تھا اس وقت حجاز میں اسمعیل کی اولا دبس رہی تھی۔غرض جس نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں یہ ثابت ہے کہ قریش بنو اسمعیل تھے اور فاران بائبل کے مطابق وہی علاقہ ہے جس میں بنو اسمعیل رہے۔حبقوق نبی کی پیشگوئی: پس فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ یقیناً جلوہ محمدی ہی تھا جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اور اس کی خبر حبقوق نبی نے مسیح سے ۶۲۶ برس پہلے دی اور کہا : ” خدا تیا سے اور جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا سلاہ۔اس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی اور اس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلیں پر وہاں بھی اس کی قدرت در پردہ تھی۔مری اس کے آگے آگے چلی اور اس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی وہ کھڑا ہوا اور اس نے زمین کو لرزہ دیا۔اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اس کے آگے دھنس گئیں۔اس کی قدیم راہیں یہی ہیں۔میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔“ حبقوق باب ۳ آیت ۳ تا ۷ ) 23