آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 46

نمائندوں سے مشورہ نہ لے لیا کریں۔اس کی تشریح میں رسول کریم صلی شی سیستم فرماتے ہیں لا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ لے اسلامی حکومت مشورہ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔جو حکومت بھی باشندگان ملک کے مشورہ کے بغیر چلائی جائے گی وہ اسلامی نہیں کہلائے گی۔مگر اس کے مقابلہ میں نہ مسیح نے کوئی مشورہ دنیا کو دیا نہ مشورہ کی اہمیت پر زور دیا۔پس یقینا محمد رسول الله ال ای ایم ہی وہ شخص تھے جو مشیر کہلاتے ہیں۔تیسرا نام اس کا ” خدائے قادر “ رکھا ہے۔تو رات کی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے مشابہت حاصل تھی چنانچہ خروج باب ۷ آیت ا میں لکھا ہے ” پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنایا۔اسی طرح خروج باب ۴ آیت ۱۶ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرماتا ہے۔تو اس ( یعنی ہارون ) کے لئے خدا کی جگہ ہو گا۔جس طرح مسیح بائبل کے محاورہ کے مطابق ابن اللہ کہلانے کے مستحق ہیں اسی طرح بائبل کے لحاظ سے حضرت موسیٰ مظہر خدا تھے۔پس جب کبھی خدا کے لفظ سے کسی انسان کی طرف اشارہ کیا جائے گا تو اس سے مراد یا موسیٰ علیہ السلام ہوں گے یا کوئی مثیل موسیٰ ہوگا اور یہ میں اوپر بتا آیا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک ایسے نبی کے آنے کی خبر دی تھی جو ان جیسا ہوگا (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ ) اور یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اس پیشگوئی کی تمام علامتیں محمد رسول اللہ صلین اسلام پر صادق آتی ہیں۔پس محمد رسول اللہ نہ ہی خدا یا صحیح لفظوں میں یوں کہو کہ خدا کے مظہر کہلانے کے مستحق تھے۔چنانچہ آپ کے متعلق قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ کنز العمال كتاب الخلافة مع الامارة جلد ۵ مسند عمر حدیث ۱۳۶ ۱۴ صفحه ۶۴۸ الطبعة الاولى ۱۹۷۱ ء منشورات مكتبة التراث الاسلامي حلب) 46