آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 32
ہے وہ اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیتی ہے جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے رسول کریم سلام اسلام کو چھیڑ کر اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنا لیا، لیکن اگر کوئی قوم نہ چھیڑے تو نبی اس کی طرف جارحانہ طور پر توجہ نہیں کرتا۔صرف وعظ ونصیحت سے اس کو مخاطب کرتا ہے۔نبی تلوار اس کے خلاف اٹھاتے ہیں جو پہلے ان کے خلاف تلوار اٹھاتے ہیں اور انہی کے خلاف جنگ کرتے ہیں جو خُدا کے سچے دین کو مٹانے کے لئے جبر اور تعدی سے کام لیتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم ملی ایم کی زندگی اس پر شاہد ہے اور حضرت سلیمان نے اپنی قوم کو اسی خطرہ سے آگاہ کیا ہے۔یہ پیشگوئیاں کسی صورت میں بھی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہو سکتیں۔نہ تو مسیح فلسطین کے جنوب میں پیدا ہوائے نہ ہی بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے تھا نہ اُنکو کوئی ایسی طاقت حاصل تھی کہ ان کو چھیڑنے کی وجہ سے بنو اسرائیل تباہ ہوتے۔یہ ساری کی ساری پیشگوئیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہوسکتی ہیں اور انہی کی خبر غزل الغزلات میں دی گئی ہے۔غزل الغزلات در حقیقت رسولکریم صلینی ایام کے عشق کے اظہار میں لکھی گئی ہے۔☆ 32