آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 5
آگئی۔بنی اسرائیل کا اس زمانہ میں کنعان سے نکالا جانا صاف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت جو وعدہ کیا گیا تھا اب اس کے مستحق بنی اسرائیل یا ان کے متعلق خاندان نہیں رہے تھے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں قیامت تک یہ ملک بنی اسرائیل کے قبضہ میں رکھوں گا اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔پس صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے معنے ظاہری قیامت کے نہیں بلکہ ایک نئی شریعت کے ظہور کے ہیں جو الہامی اصطلاح میں نیا آسمان اور نئی زمین بنانا کہلاتا ہے اور لازماً قیامت کے برپا ہوئے بغیر نیا آسمان اور نئی زمین نہیں بنائے جاسکتے۔پس قیامت تک بنو اسحاق کے قبضہ کے یہی معنے تھے کہ جب ایک نیا شرعی نبی آئے گا تو اس وقت یہ ملک بنو اسحاق کے قبضہ میں نہ رہے گا۔چنانچہ اس طرف حضرت داؤد کے ایک کلام سے اشارہ بھی نکلتا ہے جہاں تو رات میں لکھا ہے کہ قیامت تک بنو اسحاق اس ملک پر قابض رہیں گے وہاں حضرت داؤد نے اس پیشگوئی کو دوسرے الفاظ میں پیش کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں :۔” صادق زمین کے وارث ہوں گے اور ابد تک اس میں بسیں گے۔“ (زبور باب ۳۷ آیت ۲۹) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ بنو اسحاق کی تباہی کا وقت قریب آرہا تھا۔اب نبیوں کا کلام دنیا کی توجہ اس طرف پھرا رہا تھا کہ اب وہ نسلی وعدہ بدل کر روحانی شکل اختیار کرنے والا ہے اور بنو اسمعیل راستباز بن کر ابراہیمی پیشگوئیوں کے وارث بننے والے ہیں اور ایک نیا عہد ان کے ذریعہ سے شروع ہونے والا ہے۔اگر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ماننے والے بنو اسمعیل کو فلسطین کی زمین میں کیوں غالب کر دیا اس نے تو صاف طور پر عہد کیا تھا کہ فلسطین کی زمین بنو اسحاق کو دی جائے گی۔اگر وہ عہد ایک اور قوم کے ذریعہ سے پورا نہیں ہونا تھا تو یہ تبدیلی خدا تعالیٰ 5