آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 75
سے کیا اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے لئے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھائے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو اور ایسا ہوگا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی۔“ ( باب ۳ آیت ۲۱ تا ۲۴) ان آیات میں حضرت موسیٰ کی کتاب استثناء والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ آنے والا موعود جب تک ظاہر نہ ہو جائے اس وقت تک مسیح کی دوبارہ آمد نہیں ہوگی۔استثناء کی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ موعود نئی شریعت لائے گا۔پس اس پیشگوئی کو اعمال میں دوہرا کر اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ آنے والے موعود کے ذریعہ سے مسیح کی تعلیم منسوخ کر دی جائے گی۔ورنہ نئی شریعت کے تو کوئی معنے ہی نہیں ہو سکتے۔ایک ہی وقت میں ایک قوم میں دو شریعتیں تو چل نہیں سکتیں۔پس یہ آنے والا موعود یقیناً ارتقاء کا آخری نقطہ ہے۔جس نے موسیٰ اور مسیح کی تعلیموں کو منسوخ کرنا تھا اور ایک نئی شریعت دنیا کے سامنے ظاہر کرنی تھی۔اعمال نے ایک اور روشنی بھی اس موعود کے متعلق ڈالی ہے اور وہ یہ کہ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبی گزرے ہیں انہوں نے اس موعود کی خبر دی ہے۔موسیٰ کی خبر کا تو پہلے ذکر آچکا ہے اور داؤد نبی سموئیل کے بعد ہوئے ہیں۔پس اعمال کی آیت ۲۴ کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ سے لے کر مسیح تک تمام انبیاء نے اس آنے والے کی خبر دی ہے۔پس جب تک یہ نبی دنیا میں ظاہر نہ ہو اس وقت تک دنیا کی روحانی تعمیر مکمل نہیں 75