آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 76
ہوسکتی۔اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ یہ نبی بائبل کی بتائی ہوئی علامتوں کے مطابق سوائے محمد رسول اللہ صل شی ای ایم کے اور کوئی شخص نہیں۔پس رسول کریم ملا سلیم کا وجود تمام انبیاء کا موعود تھا اور آپ کی شریعت بھی تمام انبیاء کی موعود تھی۔پس یہ اعتراض کسی صورت میں درست نہیں ہوسکتا کہ تورات اور انجیل کی موجودگی میں یا اور کتابوں کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔جب سابق نبیوں نے قرآن کریم کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے اور اس کی پیشگوئی کی ہے تو ان کی امتوں کو کیا حق ہے کہ وہ اس کی ضرورت سے انکار کریں۔بلکہ انہیں یا درکھنا چاہئے کہ اگر وہ قرآن کریم کی ضرورت سے انکار کریں گی ، تو ان کے نبیوں کی صداقت بھی مشتبہ ہو جائے گی اور ان نبیوں کی پیشگوئیاں جھوٹی ثابت ہو کر وہ موسیٰ کے اس قول کی زد میں آجائیں گی ”جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقعہ نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خدا وند نے نہیں کہی اور اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر (استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲) (ماخوذ از دیباچه تفسیر القرآن ۶۵ تا ۱۰۳) 76