آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 68

نبی“ کے نام سے یاد کرتی تھی اناجیل کی گواہی کے مطابق مسیح ناصری کے بعد نازل ہونے والا تھا اور مسیح ناصری کے بعد سوائے محمد رسول اللہ ا سی ایم کے کوئی شخص نہیں جس نے وہ نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور جس پر وہ تمام علامتیں صادق آتی ہوں جو وہ نبی“ " میں پائی جانے والی تھیں جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے۔(د) اسی طرح لوقا میں لکھا ہے۔” اور دیکھو میں اپنے باپ کے اس موعود کو تم پر بھیجتا ہوں لیکن جب تک عالم بالا کی قوت سے ملبس نہ ہوں یروشلم میں ٹھہر و “ (باب ۲۴ آیت (۴۹) اس پیشگوئی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے بعد ایک موعود ظاہر ہونے والا تھا مگر وہ کون موعود ہے سوائے رسول کریم مانا ہی نہم کے آج تک کوئی شخص بھی تو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کا مدعی نہیں ہوا۔(ھ) یوحنا میں لکھا ہے لیکن وہ تسلی دینے والا جو روح قدس ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا۔وہی تمہیں سب چیزیں سکھلا دے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں تمہیں یاد دلا دے گا۔“ ( باب ۱۴ آیت ۲۶ ) یہ پیشگوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اسلام کے کسی پر صادق نہیں آتی۔بیشک اس میں یہ لکھا ہے کہ باپ میرے نام سے اسے بھیجے گا۔لیکن نام سے بھیجنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ میری تصدیق کرے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی نا ہی ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تصدیق کی اور آپ کو راستباز قرار دیا اور اعلان فرمایا کہ جولوگ آپ کو لعنتی کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔مسیح خدا کا برگزیدہ اور اس کا رسول ہے۔اس جگہ پر یہ صاف لکھا گیا ہے کہ وہی تمہیں سب چیزیں سکھلا دے گا۔“ اور استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا ( آیت (۱۸) پس اس پیشگوئی میں استثناء باب 68