آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 54

آتا ہے۔یسعیاہ کی زبان سے خدا کہتا ہے ”مبارک ہو مصر میری امت۔“ مصریوں سے پوچھو کہ وہ کس کی امت ہیں۔آیا محمد رسول اللہ لینی ایام کی یا مسیح کی۔پھر لکھا ہے ”مبارک ہو اسور میرے ہاتھ کی صفت۔“ اسوریوں سے بھی پوچھو کہ وہ کس کی امت ہیں۔آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں یا مسیح کی امت۔پھر لکھا ہے ”مبارک ہواسرائیل میری میراث “ ان علاقوں میں جا کر دیکھ لو اسرائیل کا علاقہ فلسطین کس کی میراث ہے۔اس وقت زور دے کر وہاں یہود کو داخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یہودی توسیح کی امت نہیں۔اس پیشگوئی کو تو مسیح پر چسپاں کیا جارہا ہے اور مسیحی اب بھی وہاں قلیل ہیں اور مسلمان اب بھی زیادہ ہیں۔اگر یہودی اس ملک پر قابض بھی ہو گئے تو یہ کہا جائے گا کہ عارضی طور پر مسلمانوں کے غلبہ میں اختلال واقع ہو گیا، مسیح کو تو پھر بھی کچھ فائدہ نہیں ہونے کا۔خواہ مسلمان فلسطین پر حاکم رہیں خواہ یہودی مسیح کا دامن تو خالی ہی رہتا ہے اور وہ اس پیشگوئی کا مستحق کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا۔پھر اس پیشگوئی میں لکھا تھا کہ اسور اور مصر تک ایک شاہراہ ہوگی۔یعنی یہ ملک آپس میں مل جائیں گے۔اسوری مصر میں آئیں گے اور مصری اسور کو جائیں گے اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے۔کیا یہ مسیح کے ذریعہ سے ہوا؟ عیسائی بے شک مصر پر قابض ہوئے اور اسور پر بھی قابض ہوئے اور ان ملکوں کی کثرت ایک وقت میں عیسائی بھی ہوگئی۔لیکن کیا کبھی بھی وہ زمانہ آیا ہے جب مذکورہ بالا آیتوں کا مضمون مصر اور اسور کی حالت پر صادق آیا ہو؟ ان آیتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی قومیت ایک ہو جائے گی اور ان کی زبان ایک ہو جائے گی مل کر عبادت کرنے کے بھی یہی معنی ہیں اور ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کا بھی یہی مطلب ہے۔ورنہ ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں آیا جایا ہی کرتے ہیں۔پیشگوئی کا 54