آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 55

مفہوم یہی ہے کہ وہ اتنے متحد ہو جائیں گے کہ ان کی ایک قوم ہو جائے گی۔مگر دنیا جانتی ہے کہ عیسائی حکومت کے زمانہ میں کبھی بھی مصر اور اسور ایک نہیں ہوئے۔روم کے ماتحت بے شک یہ دونوں ملک تھے لیکن ہمیشہ مصر کا انتظام اور رنگ کا رہا اور اسور کا انتظام اور رنگ کا رہا۔مصر میں ایک نیم آزاد بادشاہ حکومت کرتا تھا اور اسور میں ایک گورنر رہتا تھا۔بلکہ مصر کا کلیسیا اسور کے کلیسیا سے بالکل مختلف تھا۔مصر میں عیسائیت نے اسکندریہ کے گر جا کے ماتحت ایک نئی شکل اختیار کر لی تھی اور وہ فلسطین اور شامی گرجا کی شکل سے بالکل مختلف تھی۔پھر مصریوں کی عبادت قبطی زبان میں ہوتی تھی اور شامیوں کی عبادت بگڑی ہوئی مخلوط عبرانی اور یونانی زبان میں۔ہاں اسلامی زمانہ میں یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔صدیوں تک شام اور مصر ایک حکومت رہے دونوں ملکوں کی زبان ایک ہوگئی اور اب تک ایک ہے۔جس کی وجہ سے دونوں کی عبادت اکٹھی ہوتی تھی اور اکٹھی ہوتی ہے۔دونوں ملکوں میں ایک قوم ہونے کا احساس پیدا ہو گیا۔شامی علماء مصر میں جاتے تھے۔اور مصری علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے اور مصری علماء شام میں آتے تھے اور وہ شامی علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے۔اس زمانہ میں بھی کہ یورپین سیاست نے اسلامی ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے عرب لیگ میں مصر، شام اور فلسطین دوش بدوش مل کر کام کر رہے ہیں۔پس یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ ملا تھا یہی تم کے ذریعہ سے پوری ہوئی اور یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ صلیش ایستم اور ان کی قوم کے متعلق ہی تھی مسیح اور کلیسیا کی طرف اس کو منسوب کر نا صریح ظلم ہے۔(و) پھر یسعیاہ میں لکھا ہے۔” تو ایک نئے نام سے کہلایا جائے گا جو خداوند کا منہ تجھے رکھ دے گا۔‘ ( باب ۶۲ آیت ۲) اسی طرح یسعیاہ باب ۶۵ میں لکھا ہے اور تم اپنا نام اپنے پیچھے چھوڑو گے جو میرے برگزیدوں پر لعنت کا باعث ہوگا کیونکہ خداوند یہوداہ تم کو قتل کرے 55