آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 20

یقیناً یہی علاقہ فاران تھا۔جیسا کہ یقیناً قریش ہی بنو اسمعیل تھے اور فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ عربوں سے ہی ظاہر ہونے والا تھا۔بنو اسمعیل کے عرب میں رہنے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کے نام جو بائبل میں آتے ہیں یہ ہیں۔بنیت ، قیدار ، اوسبیل ،مبسام مشماع، دومه، مسا، حدد، تنیا، بطور نیس ، قدمہ۔( پیدائش باب ۲۵ آیت ۱۳ تا ۱۶) قدیم رواج کے مطابق ان کی اولادوں کے نام بھی اپنے باپوں پر ہوں گے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولا داپنے باپوں کے نام سے کہلاتی ہے اسی طرح ملکوں کے نام بھی پرانے دستور کے مطابق بالعموم قوموں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔اس رواج کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں، تو سارے عرب میں ان بیٹوں کی اولا د پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔پہلا بیٹا بنیت تھا۔جس کی اولاد جغرافیہ نویسوں کے بیان کے مطابق ۳۰، ۳۸ ڈگری عرض شمالی اور ۳۶، ۳۸ ڈگری طول مشرقی کے درمیان رہی تھی۔چنانچہ ریورنڈ کا تری بی کاری ایم اے نے اس کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے نزدیک فلسطین سے لے کر بند ریلبوع تک جو مدینہ منورہ کا بندر ہے یہ قوم پھیلی ہوئی تھی۔دوسرا بیٹا قیدار تھا۔اس کی قوم بھی عربوں میں پائی جاتی ہے۔قیدار کے معنی ہیں اونٹوں والا۔یہ قبیلہ حجاز اور مدینہ کے درمیان آباد ہے۔بطلیموس اور پلینی دونوں نے اپنے جغرافیوں میں حجاز کی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے کیڈری اور گڈ رونا ئینی قوموں کا ذکر کیا ہے جو صاف طور پر قیدار ہی کا بگڑا ہوا تلفظ ہے اور اب تک بعض عرب اپنے آپ کو قیدار کی نسل سے بتاتے ہیں۔تیسرا بیٹا او بیل تھا جو زیفس کے بیان کے مطابق او بیل نامی قوم اسی عرب علاقہ 20