آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 18
ملک مصر سے ایک عورت اس سے بیاہنے کو لی۔“ ( پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۱،۲۰) بائبل فاران کے مقام کو عربوں کے بیان کی نسبت کس قدر مختلف جگہ پر قرار دیتی ہے اور کنعان کے کناروں پر ہی بتاتی ہے۔لیکن جنگل اور پہاڑ شہروں کی طرح کسی چھوٹے سے علاقہ میں محدود نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ سینکڑوں اور ہزاروں میل تک پھیلتے چلے جاتے ہیں۔پس اگر بائبل کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کے یہی معنی ہوں گے کہ فاران کے پہاڑ اور اس کا بیابان کنعان کے پاس سے شروع ہوتا ہے۔اس سے یہ تو ثابت نہ ہوگا کہ وہ ختم بھی وہیں ہو جاتا ہے۔بائبل تسلیم کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک بیٹا اسمعیل نامی تھا اور بائبل بتاتی ہے کہ وہ فاران میں رہا۔اب فاران کے جغرافیہ کے متعلق تو اسمعیل کی اولاد کی گواہی ہی تسلیم کی جائے گی کیونکہ وہی فاران کی رہنے والی ہے۔بنواسرائیل تو تاریخ اور جغرافیہ میں اتنے کمزور تھے کہ وہ اس رستہ کو بھی صحیح طور پر بیان نہیں کر سکے جس رستہ پر چل کر وہ مصر سے کنعان آئے تھے۔دوسرے ملکوں کے متعلق ان کی گواہی کی قیمت ہی کیا ہے۔دنیا میں ایک ہی قوم ہے جو اپنے آپ کو اسمعیل کی اولا د کہتی ہے اور وہ قریش ہے اور وہ عرب میں بستے ہیں اور مکہ مکرمہ ان کا مرکز ہے۔اگر عربوں کا یہ دعویٰ غلط ہے تو سوال یہ ہے کہ اس غلط دعوئی کے بنانے کی انہیں غرض کیا تھی۔بنو اسحاق تو ان کو کوئی عزت دیتے ہی نہیں تھے۔پھر ایک جنگل میں رہنے والی قوم کو اس بات کی کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو اسمعیل کی اولا د قرار دیتے اور اگر اس نے یہ جھوٹ بنایا ہی تھا تو اسمعیل کی اصل اولا د کہاں گئی؟ بائبل کہتی ہے کہ اسمعیل کے بارہ بیٹے تھے۔بائبل کہتی ہے کہ ان بارہ بیٹوں کی نسل آگے بہت پھیلے گی۔لکھا ہے:۔18