آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 17

اناجیل نے نہ معلوم کیوں شعیر کوسینا کا مترادف قرار دیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شعیر فلسطین کا حصہ ہے یہ نام مختلف شکلوں میں بگڑ کر آیا ہے۔اور یہ نام ایک قوم کا بھی ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھی اور بنو آشر کہلاتی تھی اور یہ شمال مغربی فلسطین کے علاقے کا بھی نام ہے۔پس شعیر سے مراد وہی جلوہ ہے جو خصوصیت کے ساتھ فلسطین میں ظاہر ہونے والا تھا۔موسیٰ علیہ السلام تو کنعان پہنچے ہی نہیں اسی جگہ پر فوت ہو گئے جہاں کنعان کی سرحدیں نظر آتی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا جلوہ ظاہر نہیں ہوا جو اس قسم کی عظمت والا ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلوہ تھا۔پس شعیر سے طلوع ہونے سے مراد حضرت مسیح کا ظہور ہے جو عین کنعان میں ظاہر ہوئے اور جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے پھر ایک دفعہ دنیا کو اپنی شکل دکھلائی۔تیسرا جلوہ فاران سے ظاہر ہونا تھا۔فاران سے مراد وہ پہاڑ ہیں جو مدینہ اور مکہ کے درمیان ہیں۔چنانچہ عربی جغرافیہ نویس ہمیشہ سے ہی مدینہ اور مکہ کے درمیانی علاقہ کا نام فاران رکھتے چلے آئے ہیں۔مدینہ اور مکہ کے درمیان ایک پڑاؤ ہے، جس کا نام وادی فاطمہ ہے جب قافلے وہاں سے گذرتے ہیں تو وہاں کے بچے قافلہ والوں کے پاس پھول بیچتے ہیں اور جب ان سے قافلہ والے پوچھیں کہ یہ پھول تم کہاں سے لائے ہو تو وہ کہتے ہیں مِنْ بَرِيَّةِ فَارَان - فاران کے جنگل سے لائے ہیں۔پس فاران یقینی طور پر عرب اور حجاز کا ہی علاقہ ہے۔تو رات سے ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اسی فاران کے میدان میں رہے تھے۔لکھا ہے:۔اور خدا وند اس لڑکے ( یعنی اسمعیل) کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیر انداز ہو گیا اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اس کی ماں نے 17