آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 9

کوئی شریعت لائے؟ عیسی علیہ السلام نے تو یہ کہا ہے کہ :۔یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔“ ( متی باب ۵ آیت ۱۸-۱۷) پھر ان کے حواریوں نے یہاں تک کہہ دیا۔کہ شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں۔مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑا یا۔“ ( گلتیوں باب ۱۳ آیت ۱۲ ، ۱۳) گو یا مسیح خود کسی شریعت کے لانے کے مدعی نہیں اور ان کے حواری شریعت کو ہی لعنت قرار دیتے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی قوم اس پیشگوئی کی مستحق ہو؟ (۲) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا، لیکن مسیح تو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود بنی اسرائیل میں سے تھا بعض عیسائی صاحبان ایسے موقعہ پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ اس کا کوئی باپ نہیں تھا اس لئے وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے کہلا سکتا ہے۔لیکن یہ دلیل ہرگز معقول نہیں۔کیونکہ بائبل کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ بھائی بہت سے ہوں گے اور ان بہت سے بھائیوں کی نسل میں سے اس موعود نے ظاہر ہونا تھا۔کیا عیسی علیہ السلام کی قسم کے لوگ بھی بہت سے ہیں اگر نہیں تو پھر عیسی علیہ السلام پر یہ پیشگوئی کیونکر چسپاں ہو سکتی ہے؟۔علاوہ ازیں بائبل میں تو مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ وہ داؤد کی نسل میں سے ہوگا (زبور باب ۱۳۲ آیت ۱اویر میاه باب ۲۳ آیت ۵-۸) اگر بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت 9