آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 8
شریعت ہونے کی پیشگوئی ان الفاظ سے نکلتی ہے کہ وہ موسیٰ کی مانند ہوگا اور موسیٰ صاحب شریعت نبی تھے۔دوسری خبر اس پیشگوئی میں یہ دی گئی ہے کہ سب باتیں جو اسے کہی جائیں گی وہ لوگوں سے بیان کرے گا۔یہ علامت بھی بتاتی ہے کہ وہ صاحب شریعت ہوگا کیونکہ صاحب شریعت نبی قوم کی بنیادر کھنے والا ہوتا ہے محض ایک مصلح نہیں ہوتا۔اس لئے اسے حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ساری تعلیم لوگوں کے سامنے بیان کرے۔کیونکہ شریعت کے بغیر قوم کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔مگر جو غیر تشریعی نبی ہوتا ہے وہ چونکہ صرف پہلی کتاب کا شارح ہوتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ساری وحی لوگوں کو سنائے۔ہوسکتا ہے کہ بعض باتیں اس کے ذاتی علم کے طور پر اسے کہی گئی ہوں لیکن ضروری نہ ہو کہ وہ اپنی قوم سے ان کا ذکر کرے۔یہ بھی ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اس پیشگوئی کا موعود نبی اپنی تعلیم کو خدا تعالیٰ کا نام لے کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور جو لوگ اس کی تعلیم کو نہ سنیں گے ان کو سزا دی جائے گی اور وہ خدا کے عذاب کے نیچے آئیں گے۔یہ بھی اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس پیشگوئی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس پیشگوئی کا مستحق ہونے کا جھوٹا دعوی کرے گا تو ایسا شخص قتل کر دیا جائے گا۔اب پیشگوئی کے ان تمام اجزاء کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام تک اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا نبی دنیا میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔درمیانی انبیاء کا تو ذکر جانے دو، ان کی تو نہ کوئی امت موجود ہے نہ کوئی قوم پائی جاتی ہے۔ایک عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جن کے ماننے والے دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جو انہیں آخری مصلح قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مگر اس پیشگوئی کو سامنے رکھ کر دیکھو یا اس پیشگوئی کی شرائط حضرت عیسی علیہ السلام پر پوری اترتی ہیں؟ اول۔اس پیشگوئی سے پتہ لگتا ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی ہوگا۔کیا عیسی علیہ السلام 8