آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 56
گا اور اپنے بندوں کو دوسرے نام سے بلائے گا۔" ( آیت (۱۵) اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ایک نیا سلسلہ ایک نئے نام سے جاری کیا جائے گا اور اس نئے نام کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ وہ نیا نام اس سلسلہ کے لوگ خود نہیں رکھیں گے بلکہ خدا تعالیٰ اپنے منہ سے ان کا وہ نام تجویز کرے گا۔اس پیشگوئی کو بھی بائبل نویسوں نے کلیسیا پر لگایا ہے حالانکہ مسیحیوں کو کوئی نام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملا۔ہاں اپنے طور پر مختلف مسیحی فرقوں نے اپنے اپنے نام رکھ لئے ہیں۔ساری دنیا میں صرف ایک ہی قوم ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نام ملا ہے اور وہ مسلمان ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ سَلَمكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا ( الج: ۷۹) خدا تعالیٰ نے ہی تم لوگوں کا نام مسلمان رکھا ہے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی اور اب اس قرآن کریم کے ذریعہ سے بھی۔دیکھو کس طرح یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کی طرف صاف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے پہلے سے ہی بتا دیا تھا کہ ہم تمہارا نام خود رکھیں گے۔چنانچہ اب ہم نے خود سلامتی کے شہزادہ کی پیشگوئی کے مطابق تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔یہ پیشگوئی نہایت ہی عجیب اور لطیف ہے۔تمام دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ کسی نبی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ اس کی جماعت کا نام الہامی طور پر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے لیکن یسعیاہ کہتا ہے کہ پہلے دستوروں کے خلاف ایک نبی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کا نام خاص الہام سے رکھے گا۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلیہ السلام اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے میری امت کا نام مسلم اور میرے مذہب کا نام اسلام رکھا ہے۔56