مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 920
920 اس عبارت کے متعلق ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعد کی تحریرات میں بمطابق اشتہار فروری ۱۸۹۲ء نبی بمعنی محدث ہی ہے اور ۱۹۰۱ء کی بعد کی تحریرات میں بجائے نبی کے لفظ کے محدث کا لفظ سمجھنا چاہیے۔تو حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۱ کی مندرجہ بالا عبارت میں ”نبی کی بجائے محدث کا لفظ لگا کر عبارت کا مفہوم شائع فرمائیں۔جو ہر اہل انصاف کی عقل کے مطابق یہ بنے گا کہ ۱۳۰۰ سال میں محدث کا نام پانے کے لئے صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی مخصوص ہوئے اور آپ سے پہلے کوئی محدث اس امت میں نہیں گذرا۔اس ضمن میں دوسرا حل طلب امر یہ ہے کہ بقول مولوی محمد علی صاحب ”نبی“ ہونا اور ہے اور نبی کا نام پانا شے دیگر ہے۔ان کے نزدیک نبی کا نام پانے سے کوئی شخص فی الواقعہ نبی نہیں بن جاتا۔تو جب حقیقۃ الوحی کی مندرجہ بالا عبارت میں ”نبی" کی جگہ محدث“ کا لفظ لگایا جائے گا۔تو عبارت یوں بن جائے گی ” پس محدث کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“ اس سے مولوی محمد علی صاحب کی تحریرات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلے گا:۔نہیں ہیں۔ا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف محدث کا نام پانے والے ہیں۔حقیقی طور پر محدث بھی ۲۔امت محمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوا کوئی غیر حقیقی محدث بھی نہیں ہوا۔چہ جائیکہ اصلی محدث ! حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی مصلح موعود ہیں چوتھا سوال :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء ( مجموعه اشتہارات جلد اصفحہ ۱۰۱) میں تحریر فرماتے ہیں:۔سو مجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نوراللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی